سفرنامہ سنگاپور (حصہ دوئم)

لیپ ٹاپ آن کرکے خرم فیس بک پہ لاگ ان ہوا اور سرچ بار میں لکھا ۔۔

"Pakistanis living in Singapore”

جلد ہی بہت سی پروفائلز اور گروپ سرچ رزلٹ میں آنے لگے ۔۔ وہ ایک ایک کرکے سب کو میسج کرتا گیا اور اپنے آنے کا مقصد اور سکیجوئل بتایا۔ کچھ دیر میں اس کے پاس سنگاپور کے حوالے سے کافی معلومات اکھٹی ہوچکی تھی ۔ وہاں کا موسم ، لوگ ، ٹرانسپورٹ، زبان، حلال فوڈ ، موبائل نیٹ ورک، کرنسی، مساجد کے بارے میں اور دیگر اسی طرح کی معلومات جسے وہ اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا جارہا تھا۔ کچھ پاکستانیوں نے اسے وہاں پہنچ کر ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی اور اپنے کانکٹ نمبرز بھی دیئے۔
ان ہی میں سے ایک ہریش کمار بھی تھا جو سنگاپور میں جاب کرتا تھا اور ان دنوں پاکستان آیا ہوا تھا۔ خرم کی اس سے کافی اچھی بات چیت ہوگئی تھی۔ خرم کی فلائٹ سے ایک دن پہلے اس کا میسج آیا،
"آپ کی فلائٹ کس دن کی ہے ، ٹائم کیا ہے اور ائرلائن کون سی ہے؟”

"برو کل کی فلائٹ ہے دوپہر تین بجے کی سری لنکن ائر لائن سے”

"ارے اسی فلائٹ سے تو میں بھی جارہا ہوں کل سنگاپور”

یہ پڑھ کر خرم کا حوصلہ بڑھ گیا ۔۔ واقعی اللہ خود ہی اسباب بنادیتا ہے۔۔

"واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے اب تو میں ایزیلی جاسکتا ہوں ” خرم نے جوشیلے انداز میں کہا۔

"ہاں آپ فکر نہیں کرو۔۔ آئی ول بی دیر فور یو ۔۔۔ ائرپورٹ پہنچ کے مجھے ٹیکسٹ کردینا میں فلائٹ سے کچھ دیر پہلے آوں گا”

"اوکے برو” ٹائپ کرکے خرم نے لیپ ٹاپ آف کیا اور آفس سے گھر کی طرف چل دیا۔
وہاں کے موسم کے حوالے سے جو اسے پتہ چلا تھا وہ یہ تھا کہ موسم ملا جلا ہوتا ہے ، حبس زیادہ رہتا ہے اور وقفے وقفے سے بارشیں ہوتی رہتی ہے۔۔ اس نے اسی حساب سے کچھ لائٹ اور کچھ گرم کپڑے، اس کے علاوہ دیگر ضرورت کا سب سامان رات کو ہی رکھ کے اپنا بیگ ریڈی کرلیا ۔۔ اور سونے کے لئے لیٹ گیا۔رات بھر وہ کل کے سفر کے متعلق سوچتا رہا ۔۔پہلی دفعہ انٹرنیشنل ٹریول تھا اور وہ بھی بلکل تنہا ۔۔ لیکن ہریش کے ساتھ کا سوچ کر وہ ریلیکس ہوگیا تھا۔۔

اگلے دن گھر والوں سے رخصت ہوتے وقت اس کی امی کچھ جذباتی ہوگئیں تھی۔۔
"دیکھ بیٹا جہاز میں کسی سے کچھ لے کر نہیں کھانا ، اور نہ غیر ضروری کسی سے بات وات کرنا ۔۔ اور ہاں سائوتھ افریقہ پہنچتےہی بتادینا ۔۔ اللہ تجھے اپنے حفظ و آمان میں رکھے”

"امی ساوتھ افریقہ نہیں سری لنکا” خرم کے چھوٹے بھائی نے بیچ میں لقمہ دیا۔

"ارے ہاں بھئی جو بھی ہے بس خیریت بتاتے رہنا” امی کی بات پہ سب ہنسنے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ * ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ * ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ * ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلائٹ سے کچھ گھنٹے پہلے خرم ائرپورٹ پہنچ گیا، والد کو باہر سے رخصت کر کے خرم بین الاقوامی روانگی والے گیٹ سے اندر داخل ہوا۔۔ ہر شخص اپنا سامان اٹھائے مختلف کاونٹرز اور اسٹال پہ جارہا تھا ۔۔ خرم نے کسی سے پوچھ کے سب سے پہلے اپنا سامان سکیننگ مشین سے گذارا ۔۔ اس کے بعد سری لنکن ائر لائن کے کاونٹر پر جاکر سامان کا ویٹ کروا کے امیگریشن کاونٹر کی طرف بڑھ گیا ۔۔ اچانک کسی نے اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا ۔۔۔

"خرم بھائی کیا حال ہیں ۔۔ پہچانا؟” پیچھے ایک دبلا پتلا سا نوجوان ہاتھ میں ایک چھوٹا بیگ اٹھائے کھڑا تھا۔۔

"ہریش بھائی۔۔۔ فیس بک پکچر سے تو کافی الگ لگتے ہو ۔۔۔ خیر کب پہنچے آپ کو میں نے میسج بھی کیا تھا”

"یار میں تو بس فلائٹ سے ایک گھنٹہ پہلے آتا ہوں ۔۔ سب پروسیجر پتہ ہے تو زیادہ دیر نہیں لگتی۔۔ میں نے سوچا پہنچ کے آپ کو ڈھونڈ کے سرپرائز دوں”

” اوہ نائس ۔۔ میں تو خیر تین گھنٹے پہلے آگیا تھا۔سامان بھی گھر والوں نے اتنا زیادہ رکھوادیا تھا کہ اللہ کی پناہ۔۔۔ "

دیگر رسمی بات چیت کے بعد دونوں نے امیگریشن کاونٹر پہ پاسپورٹ چیک کروایا اور بورڈنگ کے لئے چلے گئے ۔ کچھ دیر وزٹرز روم میں انتظار کے بعد ان کی فلائٹ کی اناوسمینٹ ہوئی اور وہ جہاز کی طرف چلے۔۔

ہریش ہر سٹیپ پہ خرم کو گائیڈ کررہا تھا جس سے اسے کافی آسانی ہوگئی تھی ۔۔ جہاز میں داخل ہوتے ہوئے دونوں نے اپنی سیٹز تلاش کی ۔۔۔ جو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر تھی۔ ہریش اسے کچھ ضروری باتیں بتا کر اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد فلائٹ کے ٹیک اوف کی اناوسمینٹ ہونے لگی۔۔
خرم کو تھوڑا ڈر اور گھبراہٹ ہونے لگی ۔۔۔ اچانک کان میں سیٹیاں بجنے لگی اور پیٹ میں کچھ گدگدی سی محسوس ہوئی اور پھر سب نارمل ہوگیا۔۔۔ فلائٹ اب ٹیک آف کرچکی تھی ۔۔۔
خرم نے سیٹ پہ موجود ہیڈ فون کان پہ لگا کے سامنے ایل سی ڈی پہ اپنی پسند کی مووی لگائی اور دیکھنے میں مصروف ہوگیا ۔۔۔ پانچ گھنٹے کیسے گذرے پتا بھی نہ چلا اور فلائٹ کولمبو ائرپورٹ پہ لینڈ کرنی کی اناوسمینٹ ہونے لگی۔۔۔

کولمبو ائرپورٹ اتر کر خرم کو وائی فائ میسر ہوا تو گھر کال کرکے اپنی خیریت بتائی۔۔ ابھی وہ بات کرکے فون رکھ ہی رہا تھا کہ ایک میسج کی نوٹیفیکیشن بیپ سنائی دی ۔۔۔ اس نے چیک کیا تو اس ہاوس اونر لڑکی کا میسج سکرین پہ جگمگارہا تھا ۔۔
"Sorry i am cancelling your booking as agoda doesn’t allow contact sharing and payment method you talked about”


جاری ہے۔۔

فیضان متین

سفرنامہ سنگاپور (قسط اول)

"کیا کہا سنگاپور !!! کب جارہے ہو؟اور یہ اچانک کیسے؟”

"پاپا بس باس نے آج ہی بتایا ہے ، اب تین دن میں تیاری کرنی ہے ۔۔۔جمعے کی فلائٹ ہے ۔۔ اور وہاں رہائش کے لئے ہوٹل وغیرہ بھی خود ہی بک کرنا ہے۔”

"اچھا اور یہ اچانک کیسے مہربان ہوگئے باس آپ پہ؟”

"دراصل ہماری کمپنی کو ایک پروجیکٹ ملا ہے جو سنگاپور کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اشتراک سے مکمل ہوگا اس سلسلے میں کچھ ٹیسٹنگ ہے جو وہاں فیکٹری میں جاکر کرنی ہے۔ اور اس کام کے لئے باس نے مجھ ناچیز کو سیلیکٹ کیا ہے۔ ”

"واہ واہ گڈ ! مگر تم نے تو کبھی انٹرنیشنل ٹریول نہیں کیا ۔۔ انفیکٹ جہاز میں ہی سفر نہیں کیا تو کیسے مینیج کروگے سب !! اور وہ بھی اکیلے”

"یہ تو میں بھی سوچ رہا ہوں پاپا ۔۔ خیر اللہ مالک ہے کچھ نہ کچھ اسباب بن جائے گا۔”

خرم کو یہ کمپنی جوائن کئے ہوئے ابھی تین مہینے ہی ہوئے تھے۔ اس کی محنت اور لگن سے متاثر ہوکر اس کے مینیجر نے اس پراجیکٹ کے لئے اسے منتخب کیا تھا جو اس کے لئے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک ذمے داری والا کام بھی تھا۔ باس نے تین دن کے اندر اپنی تیاری کرنے کا کہا تو اس نے فورا گھر پہ کال کرکے بتایا۔

"خرم میں نے تمھارا ریٹرن ٹکٹ بک کروادیا ہے سری لنکن ائر لائن کا۔۔ کنکٹنگ فلائٹ ہے ۔۔ ایک دن تمھیں آرام کے لئے مل جائے گا ۔۔ اس کے بعد اگلے دن سے فیکٹری جوائن کرنی ہے۔۔ اور ہاں تمھارے اکاونٹ میں فل الحال کچھ اماونٹ کریڈٹ کررہا ہوں ۔۔ باقی پھر وہاں جاکر بھیج دوں گا ۔۔۔باقی ہوٹل بکنگ کے لئے تم انٹرنیٹ پہ سرچ کرلو ” باس نے ساری پلاننگ بتاتے ہوئے کہا۔

"ٹھیک ہے سر میں چیک کرتا ہوں ” لیپ ٹاپ سکرین پہ نظریں ٹکائے خرم نے جواب دیا۔

کچھ دیر ہوٹلز کی سرچنگ کے بعد خرم کو اندازہ ہوگیا کہ سنگاپور ایک مہنگا ملک ہے اور جتنا اماونٹ باس اسے پندرہ دن کے لئے دے رہے ہیں اس میں تو ہوٹل کا صرف ایک رات کا کرایہ ادا ہوگا۔ باس سے مزید اماونٹ کی ڈیمانڈ کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔ اب اسے کوئی الٹرنیٹ دیکھنا تھا ۔۔۔ اچانک اس کی نظر ایگوڈا ڈاٹ کام ویب سائٹ پر پڑی۔۔

"اچھا تو اس ویب سائٹ کے ذریعے لوگ اپنے اپارٹمنٹ یا روم رینٹ پہ دیتے ہیں جو ہوٹل کے مقابلے میں بہت سستے ہوتے ہیں ۔۔ چل بھئی خرم اپنا کام تو بن گیا۔۔” اس نے دل میں سوچتے ہوئے فیکٹری سے قریب ایک اپارٹمنٹ کی اونر لڑکی کو میسج کیا ۔۔

"I want to book your apartment for 15 days , is it available”

کچھ دیر میں اس کا جواب آگیا

"Yes it is available, confirm your arrival date”

اپنی ساری ڈیٹیلز میسج کرنے کے بعد اگلا مرحلہ پیمنٹ کا تھا جو کہ اس ویب سائٹ پہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کرنا ہوتی ہے ۔۔ خرم یہ چاہتا تھا کہ وہ وہاں پہنچ کے اس لڑکی کو پیمنٹ دے دے کیوں کہ ابھی پیمنٹ کی صورت میں رقم ڈوب بھی سکتی تھی ۔۔ نیا ملک تھا اور وہ اکیلا بھی تھا اسی لئے کسی پہ بھروسہ کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔ کچھ دیر بات کرنے کے بعد بلآخر اس نے اسے راضی کرلیا اور اس سے کانٹکٹ ڈیٹیلز لے کر سیو کرلی۔۔۔

"شکر ہے ایک طرف سے تو ذہن کلیئر ہوا ۔۔ ” ویب سائٹ بند کرنے کے بعد وہ لیپ ٹاپ آف کر ہی رہا تھا کہ اچانک اسے ایک خیال آیا ۔۔

آپ کی آراء کا منتظر !

فیضان متین

بے سکونی سب سے بڑی سزا ہے

کئی جگہ انسان چاہ کر بھی خوش نہیں رہ پاتا۔۔ اس کی ذات سے جڑے لوگ اس کی پریشانی کا سبب ہوتے ہیں جن سے وہ چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔

میری فلاسفی یہ ہے کہ خوشیاں اور سکون اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ ہے ۔۔ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرو آپ پر سکون رہو گے ۔۔

جب بھی دل بے چین ہو تو اپنے ضمیر کو جنجھوڑو ۔۔۔ اپنے آپ سے پوچھو کہ مجھ سے ماضی میں ایسا کیا گناہ سر زد ہوا تھا۔۔ میں نے کس کا دل دکھایا تھا ۔۔۔ کس کو دھوکہ دیا تھا ۔۔۔ کس کا ناحق مال کھایا تھا۔۔۔ کہیں میری کمائی میں کسی طرح حرام کا عنصر تو شامل نہیں ۔۔۔
یقینا ان میں سے کوئی وجہ ہوگی ۔۔

بس پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوجاو اور اس سے معافی مانگو ۔۔ اور ان لوگوں سے بھی معافی مانگ لو جن کا دل دکھایا ہے۔۔۔ اگر ممکن نہ ہو تو ان کی مغفرت اور اچھی زندگی کے دعا کردو۔۔۔تم پرسکون ہو جاو گے۔۔۔

✍فیضان متین

زندگی دھوپ تم گھنا سایہ

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ میرا پیدائشی نام متین ہے یعنی فیضان متین مکمل ۔۔ کچھ لوگ اسے کاسٹ یا فیملی نیم سمجھتے ہیں ۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبد المتین میرے والد کا نام ہے ۔۔ اور مجھے اپنی ذات کے بجائے اپنے والد کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ کے ایک انجانی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔۔ اس کی وجہ ان کا میرے ساتھ وہ تعلق ہے جو بچپن سے لے کر آج تک اسی طرح قائم ہے۔

متین کا مطلب ہوتا ہے مضبوط اور یہ نام میرے والد کی پرسنالٹی پہ فٹ بیٹھتا ہے ۔۔ وہ ایک مضبوط اعصاب اور شخصیت کے مالک ہیں۔۔ بہت کم عمر میں والد کا انتقال ہونے اور بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہونے کے ناطے ساری ذمے داری ان کے کندھوں پہ آپڑی۔۔ چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کی ۔۔۔ برے سے برے حالات بھی دیکھے لیکن ثابت قدم رہے اور اخلاقیات کا اعلی نمونہ پیش کیا۔۔ ماں جب طویل علالت میں بستر مرگ پر آگئیں تو دن رات ان کی خدمت میں ایک کرکے ان سے دعائیں سمیٹیں۔۔۔جب شادی ہوئی تو ایک اچھے شوہر ثابت ہوئے ۔۔ اپنی بیوی کو اتنی محبت اور شفقت کے ساتھ رکھا کہ خاندان میں مثال نہیں ملتی۔۔۔ اولاد کے ساتھ ان کا تعلق بہت مشفقانہ ہے ۔۔ زندگی کے کوئی بھی معاملات ہوں ہمیشہ حوصلہ بڑھاتے پایا۔۔ ہمارے خاندان میں زیادہ پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھا ۔۔ اور جس علاقے میں رہتے تھے وہاں زیادہ تر متوسط طبقے کے لوگ جو کہ بمشکل اپنی گزر اوقات کرپاتے ہیں۔۔۔ ان حالات کے باوجود ہم سب بہن بھائیوں کو اعلی تعلیم دلوائی اور آج میں جس مقام پہ بھی ہوں اس کی وجہ اللہ کی عطا کے بعد میرے والد کی محنت ہے۔۔۔

ابو کا بچپن سے معمول تھا کہ مجھے اسکول کالج ، یونیورسٹی کے پوائنٹ تک ۔۔ پھر جاب ہوئی تو اس کی گاڑی تک صبح بائک پہ چھوڑنے جاتے ۔۔۔ کئی دفعہ تو گہری نیند میں سورہے ہوتے ۔۔ میں ہلکی سی آواز میں کہتا ” ابو وہ زرا چھوڑنا تھا” اور فورا اٹھ کے منہ پہ پانی کے چھینٹے مار کے بائک اسٹارٹ کرلیتے۔۔ یہ سلسلہ چھوٹے بھائی کے یونیورسٹی کی تعلیم تک جاری تھا کہ اچانک ایک دن ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ۔۔ ابو کو 24 اکتوبر 2017 کو فالج کا اٹیک ہوا جس کے نتیجے میں ان کا الٹی طرف کا حصہ پیرالائز ہوگیا ۔۔۔

میرے والد ماشااللہ سے بہت ایکٹو تھے اور ساٹھ سال کی عمر تک انھیں نہ کبھی کوئی بڑی بیماری ہوئی ۔۔۔ بی پی شگر وغیرہ سب نارمل تھا بس اچانک اتنا کچھ ہوگیا ہمیں یقین نہیں آتا تھا کہ ابو کے ساتھ بھی کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارے گھر کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔۔ ابو کو ہمیشہ اسپتال کے بیڈ کے دوسری طرف لوگوں کی مدد کرتے دیکھا تھا اب جب انھیں اس حالت میں دیکھتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے ۔۔۔

تمام میمبرز سے التماس ہے کہ ابو کے لئے لازمی دعا کریں اللہ انھیں جلد صحت کامل عطا فرمادے۔ آمین

میرے والد بہت عظیم انسان ہیں ۔۔ ان کے بارے میں لکھنے کے لئے الفاظ بہت چاہئیں ۔۔ بس آخر میں ایک شعر سے اختتام کرنا چاہوں گا۔۔

وہ تھے محروم تعلیم سے مگر مجھ کو پڑھایا ہے
پسینہ حد سے بڑھ کر بھی میری خاطر بہایا ہے
کھڑا رہتا ہوں شاہوں میں جو اپنا سر اٹھا کے میں
میرے والد نے مجھ کو آج اس قابل بنایا ہے

✍فیضان متین

بلا عنوان

شوہر: "واہ واہ! ایلینور روسیولیٹ نے کیا خوب کہا ہے ، عظیم دماغ آئیڈیاز کو ڈسکس کرتے ہیں۔۔ اوسط درجے کے دماغ واقعات کو ڈسکس کرتے ہیں۔۔۔ اور چھوٹے دماغ لوگوں کو ڈسکس کرتے ہیں۔”🧐

بیوی: "ہاں تو یہ مجھے کیوں سنارہے ہیں؟”😕

شوہر: ” وہ اس لئے بیگم صاحبہ کہ آپ کی کی ہوئی باتیں ہی ڈیسایڈ کرتی ہیں کہ آپ کا دماغ کس لیول کا ہے؟”🤔

بیوی: "اوہو! بھئی یہ کیا مشکل مشکل باتیں کررہے ہیں آپ!”😦

شوہر: ” اچھا دیکھو میں سمجھاتا ہوں اب جیسے تم ہر وقت ‘ آپ کی امی نے یہ کردیا ‘، ‘آپ کی بہن نے ایسے بول دیا ‘ ۔۔ ‘آپ کے بھائی نے آج بد تمیزی سے بات کی’ وغیرہ وغیرہ باتیں کرتی ہو تو اس کا مطلب تم لوگوں کو ڈسکس کررہی ہو نہ کے آئیڈیاز کو۔۔۔ سمجھی؟”😷

بیوی نے شوہر کو گھور کے دیکھا اور بولی : ” جی بہت اچھی طرح سمجھ گئی تو چلیں آئیڈیاز ڈسکس کریں ۔۔ آج کل ‘آئیڈیاز’ پہ %70 سیل لگی ہوئی ہے عید کی وجہ سے۔۔ تو کب لے کر چل رہے ہیں۔۔۔ میاں جی ! "😤

شوہر: "ہاں تو بیگم تم کیا بتارہی تھی امی کے بارے میں۔۔؟”😝

بیویوں سے جیتنا واقعی ناممکن ہے ۔۔۔ !

✍فیضان متین

یقین کامل

آخری قسط

ویک اینڈ حیدرآباد میں گزارنے کے بعد فرخ کراچی کے لئے روانہ ہوگیا۔ پورے راستے وہ اس خواب کے بارے میں سوچتا رہا۔ پتہ نہیں کیوں اسے یقین کامل ہوچکا تھا کہ اس کا بیگ اسے مل جائے گا۔ لیکن ابھی اس نے اس خواب کا ذکر کسی سے نہیں کیا تھا۔۔ اپنے گھر والوں سے بھی نہیں! کچھ معاملات راز میں رکھنے کے ہوتے ہیں۔۔۔

دن یوں ہی گزرتے گئے۔ فرخ اپنی جاب روٹینز میں مصروف ہوگیا۔ ایک دن فرخ اپنے آفس بلڈنگ کی لفٹ کے سامنے کھڑا لفٹ آنے کا انتظار کررہا تھا کہ اچانک ایک انجان نمبر سے کال آئی۔

"یہ کس کی کال آرہی ہے۔۔ شاید کسی انٹرویو کی ہو” فرخ نے سوچتے ہوئے کال اٹینڈ کی۔

"ہیلو ! ہیلو! ۔۔۔ کون بات کررہا ہے؟” کال کے دوسری طرف موجود شخص نے پوچھا۔ لہجے سے وہ کسی گاوں کا رہائشی لگ رہا تھا جو کہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کررہا تھا۔

"جی بھائی آپ نے کال کی ہے آپ بتائیں کون ہیں اور کس سے بات کرنی ہے؟” فرخ نے جوابا کہا

"کیا تم فرخ شیخ بول رہے ہو؟” کال پہ پوچھا گیا۔

فرخ کو حیرت کا دھچکا لگا یہ کون شخص ہے جسے میرا نام پتہ ہے۔ اس نے کئی جگہ جاب کے لئے اپلائی کیا ہوا تھا لیکن کسی کمپنی کے نمائندے کا لہجہ الگ ہوتا ہے۔

"جی میں فرخ ہی بات کررہا ہوں لیکن آپ اپنا تو بتاو کون ہو”

"اچھا یہ بتاو نوکری کیا کرتے ہو ۔۔ کہاں رہتے ہو اور ابھی کہاں ہو؟” کال پہ پوچھا گیا ۔

"یار یہ کس نے انویسٹی گیشن شروع کردی کہیں سے رشتہ تو نہیں آیا” فرخ سوچ کے مسکرادیا۔

"بھائی ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب ہے کراچی میں۔۔ لیکن آپ ہیں کون؟”

"کراچی میں۔۔ لیکن ایڈریس تو تمھارا حیدرآباد کا ہے۔۔ ”

"اس کے پاس میرا ایڈریس کیسے۔۔۔۔ کہیں میرا این آئی سی تو۔۔۔ مطلب ڈوکیومینٹس ۔۔۔۔ بیگ ۔۔۔” فرخ کا دل دھڑکنے لگا۔

"بھائی حیدرآباد میں ہی رہتا ہوں کراچی جاب کی وجہ سے آیا ہوں اب تو بتادو کون ہو؟”

"بھائی تمھارے کوئی ڈوکیومینٹس گم ہوئے ہیں کیا”

"ارےے۔۔ ہاں بھائی۔۔ بلکل ہوئے ہیں ” یہ کہ کر فرخ نے ٹرین والا پورا واقعہ اسے سنایا۔

” ادا میں گھوٹکی سے بات کررہا ہوں۔۔ تمھارے یہ ڈوکیومینٹس کی فائل میرے میرے بہنوئی کو ملی تھی اسٹیشن کے پاس سے۔۔ وہ پڑھا لکھا نہیں ہے ۔۔ وہ تو انھیں پھینک رہا تھا میری نظر پڑی تو میں نے سوچا کسی کے اوریجنل ڈوکیومینٹس ہیں اسے بھیج دوں۔ تو آپ کو میں ٹی سی ایس کے ذریعے بھیج رہا ہوں ۔ مل جائیں تو بتادینا”

فرخ کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی تک خواب میں ہے۔۔ اسے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔۔ دعا قبول ہوگی لیکن اتنی جلدی۔۔۔
"اوہ تو مطلب بیگ گھوٹکی میں گرا تھا۔۔۔ یا ہوسکتا ہے اسٹیشن پہ ٹرین سلو ہوئی ہو تو کسی نے کھینچ لیا ہو۔۔۔ لیکن اسے میرا نمبر کیسے ملا ۔۔۔ ” فرخ کے دماغ میں ساری کہانی بننے لگی۔
پھر اسے یاد آیا کی اس نے بیگ میں تیاری کے لئے ایک رجسٹر بھی رکھا تھا جس میں اس نے پہلے پیج پہ اپنے نام کے ساتھ نمبر بھی لکھ دیا تھا۔۔

"بھائی میں کن الفاظ میں تمھارا شکریہ ادا کروں مجھے سمجھ نہیں آرہا ۔۔ تم نے میری ذہن کا بوجھ ہلکا کردیا ہے۔۔آپ کو کبھی زندگی میں کوئی بھی کام ہو تو لازمی بتانا۔۔ اور ہاں حیدرآباد آنا ہو تو بتانا آپ کی شاندار دعوت کریں گے” فرخ نے احسان مندی سے کہا۔

"نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے بس دعا میں یاد رکھنا، میں بھیج رہا ہوں فائل”

فرخ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔۔ اس کا دل کررہا تھا کہ ابھی سجدے میں چلا جائے اور رو رو کے اس شہ رگ سے بھی زیادہ قریب رب کا شکر بجا لائے۔۔

ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اس شخص کی دوبارہ کال آئی ۔
” بھائی بات یہ ہے کہ میں تو تمھاری فائل بھیج رہا تھا لیکن میرا بہنوئی بھیجنے نہیں دے رہا ۔۔ وہ کہتا ہے اس کو ایسے نہیں دو اس سے پیسے لو۔ تو آپ اپنے این آئی سی پہ ایزی پیسہ کے ذریعے بھیج دو پیسے”

"اوہ اچھا ۔۔ کتنے پیسے”
جواب میں تین ہزار کی ڈیمانڈ کی گئی۔۔۔ فرخ کچھ پریشان ہوگیا۔۔ لیکن خیر ڈوکیومینٹس اسی کے پاس تھے اور ویسے بھی ان خواریوں کے بدلے میں جو ڈپلیکیٹ ڈوکیومینٹس کے پراسیس میں لگنی تھی ۔۔ یہ رقم کچھ بھی نہیں تھی۔۔
” شاید وہ غریب انسان ہو اور اسے پیسوں کی ضرورت ہو۔۔” فرخ نے سوچا اور اسے کہا۔۔

"اچھا میں ابھی بھیجتا ہوں آپ فائل بھیج دیں مہربانی کر کے”

"ہاں وہ آپ بے فکر رہو میں بھیجتا ہوں”

اگلے دن فرخ کو اس کے گھر پہ پارسل ملا۔ جس میں اس کے تمام ڈوکیومینٹس سہی سلامت موجود تھے۔۔ والٹ بھی واپس بھیج دیا گیا تھا لیکن پیسوں کے بغیر۔۔ ہاں لیکن اے ٹی ایم اور این آئی سی آگیا تھا ۔۔ بیگ اور ٹائی شائد اس شخص نے ہی رکھ لی تھی۔ فرخ کو اپنے کام کی چیزیں مل گئی تھی اور اسے اپنے کام کی۔۔۔۔

فرخ نے موبائل نکالا اور ریسویڈ کال میں موجود اس نمبر کو سیو کیا۔۔
‘دی موسٹ تھینک فل پرسن’

ختم شد
فیضان متین

یقین کامل

تیسری قسط

بورڈ آفس پہنچ کر فرخ نے میٹرک کے ڈپلیکیٹ سرٹیفیکیٹ کا چالان لیا۔

"کیا ۔۔ پندرہ سو روپے فیس ؟؟؟ یہ ٹھیک ٹھاک خرچہ کروانے والے ہیں” فرخ چالان کے پیسے دیتے ہوئے خود سے گویا ہوا۔۔

"بھائی یہ چالان کے ساتھ اور کیا کیا چیزیں لگے گی؟ ” فرخ نے کاونٹر پہ موجود شخص سےپوچھا۔

"کیا آپ نے اپنے سکول کے پرنسپل سے ایپلیکشن لکھوالی؟” کاونٹر سے سوال آیا

"ایپلیکشن؟ نہیں بھائی ۔۔ اسکول تو پاس آوٹ کئے ہوئے سات آٹھ سال ہوگئے اب ” فرخ کو خواری سوچ کے ہی رونا آرہا تھا۔

"وہ لے کر آو گے تب ہی کچھ آگے کام ہوگا اور کم سے کم دو مہینے لگے گے”

"دو مہینے !!! بھائی کچھ جلدی نہیں ہوسکتا ۔۔ مجھے اس کی بیس پہ دوسرے ڈوکیومینٹس کے لئے اپلائی کرنا ہے”

"نہیں اس سے جلدی نہیں ہوگا”

"یار اب یہ نئی ٹینشن ۔۔ اسکول کی تو بلڈنگ بھی اب شفٹ ہوگئی ہے ” فرخ سوچنے لگا۔۔۔

خیر دو دن خوار ہونے کے بعد فرخ ایپلیکشن لے کر بورڈ آفس پہنچ گیا ۔۔ لیکن وہاں ایک نئی مصیبت اس کا انتظار کررہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"میجسٹریٹ کے سامنے ۔۔۔ کورٹ میں ۔۔؟ کیا پاگل ہوگئے ہیں یہ لوگ ۔۔ کوئی چوری کی ہے کیا” فرخ کے والد ان ڈوکیومینٹس کی لسٹ دیکھ کر بولے جو چالان کے ساتھ لگنے تھے۔۔

"اس میں لکھا کہ آپ کو میجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر حلفیہ بیان دینا ہے کہ میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے اور اب ڈپلیکیٹ کے لئے اپلائے کررہا ہوں” فرخ نے بتایا۔

"لو بھئی ایک ڈوکیومینٹ کے لئے اتنی خواریاں۔۔ چلو اب کرنا تو پڑے گا ۔۔ چلتے ہیں کورٹ” اس کے والد ہر موقعہ پر ساتھ کھڑے تھے۔

اسکول کے پرنسپل سے ایپلیکشن فاروڈ کرواکے ۔۔ اسے پہلے گورنمنٹ کے گزاٹڈ آفیسر سے اٹیسٹ کرواکے پھر کورٹ میں میجیسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر گواہی دینا اور اس کی سٹیمپ لگوانا اور ان سب خواریوں کے بعد پندرہ سو کا چلان ۔۔ اور وہ بھی دو مہینے بعد ملے۔۔۔ فرخ کو آگے کا سوچ کر ہی خوف آرہا تھا۔۔

خیر وہ اس پراسس کو لے کر چلتا رہا ۔۔ انہی دنوں میں اسے کراچی میں ایک پرائیویٹ کمپنی سے جاب آفر آگئی اور اس نے جوائن کرلیا۔ اب وہ ہر ویکنڈ پہ گھر آتا تھا اور اس کے ڈوکیومینٹس کا پراسیس اس کے والد دیکھ رہے تھے۔۔ یہ بات اس نے اور گھر والوں نے اب دل سے قبول کرلی تھی کہ ڈوکیومینٹس ملنے والے نہیں ہیں اور بظاہر تھی بھی ناممکن سی بات۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دفعہ وہ شب برات کہ موقعہ پر گھر آیا تھا ۔۔ مسجدوں میں خوب رونق تھی اور عبادات چل رہی تھی۔۔ وہ بھی گھر والوں سے ملنے اور ڈنر سے فارغ ہو کر مسجد شب بیداری کے لئے چلا گیا۔ اس رات کی مناسبت سے خصوصی نوافل ادا کئے اور پھر رب کے حضور سجدے میں جاکر دعا کرنے لگا۔۔۔ وہ اس طرح رورہا تھا جس طرح بچے بلک بلک کہ اپنی چیز گم ہونے پر روتے ہیں ۔۔۔
دعا سے فارغ ہوا تو فجر کا وقت ہوچکا تھا اس نے نماز پڑھی اور گھر آکر سونے کےلیٹ گیا۔۔ تھکا ہوا تھا اور ساری رات کا جاگا ہوا تھا تو جلد گہری نیند نے آلیا۔۔

سوئے ہوئے کچھ گھنٹے گزرے تھے کہ اچانک وہ گھبرا کے اور حیرت سے نیند سے بیدار ہوا ۔۔۔ اور اپنےبیڈ پہ یاتھ ٹٹولنے لگا ۔۔ "کہاں گیا یہیں تو دیکھا ہے میں نے ابھی اپنا بیگ ۔۔۔ وہ مل گیا مجھے یہیں بیڈ پہ سے”

اس نے خواب دیکھا تھا۔۔
"کیا پتہ یہ کوئی اشارہ ہو یا میرا وہم ہو۔۔۔خیر” ۔۔۔

شائد دعا کی قبولیت کا وقت قریب آچکا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

✍فیضان متین

یقین کامل

دوسری قسط

باتھ روم جاکر فرخ نے وضو کیا اور دوبارہ کمپارٹمنٹ میں آکر برتھ کے بیچ والی جگہ پر اپنی چادر بچھائی اور چلتی ہوئی ٹرین میں نماز کی نیت باندھ لی۔۔

ہر طرف سے مایوسی کے بعد اسے ایک یہی راستہ نظر آیا کہ کیوں نہ اس سے مانگا جائے جو ہمیں کبھی مایوس نہیں کرتا۔

نماز کی ادائیگی کے بعد فرخ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ، "یا اللہ ! میری ساری امیدیں دم توڑ گئی ہیں ، اب واحد تیرا ہی آسرا ہے ۔۔ تونے کسی حال میں مجھے بے سہارا نہیں چھوڑا ۔۔ بس کسی طرح میرا بیگ ملوادے ۔۔ یہ میری پوری زندگی کا سرمایہ تھا میرے کیریئر کا سوال ہے مولی۔۔ تیرے لئے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔۔” فرخ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔۔

نماز پڑھ کہ اس نے دل کا بوجھ کچھ ہلکا محسوس کیا اور وہ پرسکون ہوگیا۔ اب وہ آگے کا سوچنے لگا کہ گھر والوں کو کس طرح اس سب واقعہ کے بارے میں بتائے ۔۔ اور ڈپلیکیٹ ڈوکیومینٹس کا پروسیس کس طرح شروع کرنا ہے۔۔

"ڈپلیکیٹ ڈوکیومینٹس کے لئے سب سے پہلی چیز جو تمھیں چاہیئے وہ پولیس اسٹیشن سے این سی یا ایف آئی آر کا حصول ہے۔۔ کیوں کہ ہر ڈوکیومینٹ کے اپلائے کرنے کے لئے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔۔ اور سیفٹی کے لئے بھی ، تاکہ کوئی تمھارا این آئی سی یا ڈوکیومینٹس غلط استعمال نہ کرلے”۔ نوید نے اسے بتایا۔

"یار لیکن میرا بیگ تو کنفرم پتہ ہی نہیں ہیں کس تھانے کی حدود میں گرا ہےتو ایف آئی آر کیا پنجاب جاکر کٹواوں؟” فرخ نے پریشانی سے کہا

"یار اس مسئلے کا حل آپ کے بھائی کے پاس ہے۔۔ حیدرآباد پہنچ کر سب سے پہلے اسٹیشن پہ ہی پولیس کو ایف آئی آر کٹوادیں گے ، اور انھیں کہیں گے کہ بیگ حیدرآباد کے قریب ہی گرا ہے۔ ” نوید نے فرخ کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے حل بتایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدرآباد اسٹیشن پہ ٹرین رکی تو فرخ کے ابو پہلے سے ہی وہاں موجود تھے جو اسے لینے کے لئے آئےتھے۔ فرخ نے انھیں سلام کرنے اور گلے لگنے کے بعد بیگ کی گمشدگی کے متعلق ساری بات بتادی۔

"اوہ یہ تو بہت برا ہوا بیٹا ! تمھیں میں نے کہا بھی تھا کہ ایک ہی بیگ رکھ لو۔ لیکن سنتے کب ہو ہماری۔ اچھا یہ بتاؤ اے ٹی ایم کارڈ بلاک کروایا؟” فرخ کے والد نے اس سے پوچھا

"ارے پریشانی میں بلکل ذہن سے نکل گیا اور موبائل بھی آف ہوگیا تھا۔۔ ابھی کروادیتا ہوں لیکن پہلے ذرا ایف آئی آر کٹوادیں”

نوید اور فرخ پولیس اسٹیشن کی طرف بڑھے اور فرخ کے والد ان کے سامان کے پاس کھڑے ان کا انتظار کرنےلگے۔

کچھ دیر بات دونوں ایف آئی آر کی کاپی کے ساتھ واپس لوٹے۔
"ابو ایف آئی آر تو کٹ گئی اب زرا گھر جاتے ہوئے بورڈ آفس سے میٹرک کے سرٹیفیکیٹ کے ڈپلیکیٹ کا چلان لیتے ہوئے چلنا ہے۔ ”

فرخ یہ سب جتنا آسان سمجھ رہا تھا اتنا تھا نہیں۔۔ اگر تصور کیا جائے تو ناممکن لگتا تھا ، پرائمری سے لے کر ماسٹرز تک ہر ڈوکیومینٹ کا ڈپلیکیٹ اس کے لئے پیسے اور ٹائم کی خواری الگ ۔۔ پھر اس کے بعد ڈوکیومینٹ پہ ڈپلیکیٹ ہی لکھا ہوا ملے۔۔۔

لیکن خیر اب جو ہوچکا تھا اس پہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بھی تو نہیں بیٹھا جاسکتا تھا۔ اس نے ڈپلیکیٹ ڈوکیومینٹس کا پراسس سٹارٹ کرنا چاہا اور پہلا ڈوکیومینٹ میٹرک کا سرٹیفیکیٹ تھا۔۔

"ابھی تو اس طرح کے بہت ڈوکیومینٹس ہیں۔۔ اف خدا کییسے ہوگا سب۔ اللہ ہی اب کوئی معجزہ دکھادے ۔۔” فرخ نےادسی سےسوچا

جاری ہے۔۔۔

✍فیضان متین

یقین کامل

۔۔ پہلی قسط

"نوید ! نوید! اٹھ یار جلدی اٹھ بھائی” فرخ نے نوید کو تقریبا جھنجھوڑتے ہوئے اٹھایا۔۔

"کیا ہوگیا بھائی! اتنی رات کو وہ بھی ٹرین میں تجھے سکون نہیں ہے؟”

"ابے سکون کے بچے ! میرا وہ بیگ نہیں مل رہا جس میں اوریجنل ڈوکیومینٹس تھے؟”فرخ نے رودینے والے انداز سے کہا۔

"کیا ؟ ارے نیچے دیکھ سیٹ کے ، یہیں ہوگا ۔” نوید جو بیچ والی برتھ پہ سورہا تھا اچھل کے نیچے آگیا اور دونوں مل کے فرخ کا بیگ ڈھونڈنے لگے۔ اس وقت رات کے چار بج رہے تھے اور ٹرین روہڑی اسٹیشن پہ رکی تھی۔ انھوں نے اپنے کمپارٹمنٹ میں موجود ہر مسافر کو اٹھاکر بیگ کا پوچھا لیکن سب نے انکار کردیا۔

نوید اور فرخ کلاس فیلوز تھے اور دونوں اسلام آباد میں ایک سرکاری ادارے میں انٹرویو دے کر ٹرین سے واپس اپنے شہر جارہے تھے۔ دونوں کو کمپارٹمنٹ کی بیچ والی برتھ ملی تھی۔ وہ اکانومی کلاس کا ڈبہ تھا اور اس کی کھڑکیاں آدھی کھلی ہوئی تھی۔

"یار کاش میں ابو کی بات مان لیتا ، انھوں نے کہا بھی تھا ایک بڑا بیگ رکھ لو ، اسی میں ڈوکیومینٹس والا بیگ رکھ لینا، ہم ٹہرے عقلمند ۔۔ ڈوکیومینٹس کے لئے الگ سے ایک بیگ پیک رکھ لیا۔” فرخ کو خود پہ غصہ آرہا تھا۔

"الگ بیگ رکھ لیا وہ تو خیر تھی ، لیکن اسے تکیہ بنا کہ سر کے نیچے رکھنے کی کیا ضرورت تھی” نوید نے بیگ تلاش کرتے ہوئے پوچھا۔

"یار بھائی میں گھر سے تکیہ اور چادر لے کر آیا تھا جو میں نے اوپر والی برتھ پہ رکھ دی تھی ۔۔ اوپر والی برتھ کے بھائی صاحب نے اسے اپنی پراپرٹی سمجھ کے سر کے نیچے تکیہ لگایا اور گھوڑے گدھے بیچ کے مزے سے سوگئے۔ میں نے بھی نیند خراب کرنا مناسب نہیں سمجھا اور بیگ کو ہی تکیہ بنالیا۔” فرخ نے غصے اور اداسی کی کیفیت میں جواب دیا

ان دونوں نے ٹرین سے نیچے اتر کر اپنے کمپارٹمنٹ کے پاس پٹریوں پر کافی تلاش کیا لیکن بیگ وہاں موجود نہیں تھا۔ اتنے میں ٹرین چلنے کا سائرن بجنے لگا۔ وہ دونوں مایوسی سے ٹرین میں چڑھے۔۔ سامنے پولیس کھڑی دکھی تو فرخ نے فورا جاکر سارا واقعہ سنایا ۔۔

"اچھا تو تمھارا بیگ کسی نے چوری کیا ہے یا نیچے گرا ہے؟”
پولیس والے نے تفشیش سٹارٹ کی

"یہی لگتا ہے کہ بیگ سر کے نیچے سے کھسک کے کھڑکی سے باہر جا گرا ، کیوں کہ کھڑکی میں کافی اسپیس تھی” نوید نے بتایا۔

"اچھا تو کیا کیا تھا بیگ میں”

"سر اس میں میرے پرائمری سے لے کر ماسٹرز تک کے سارے اصلی ڈوکیومینٹس، میرا والٹ جس میں پانچ ہزار روپے ، این آئی سی ، اے ٹی ایم کارڈ اور انٹرویو میں پہنی ہوئی ٹائی رکھی ہوئی تھی”فرخ نے جلدی جلدی بتایا

"اور یہ گرا کہاں پہ؟”

"سر یہ تو نہیں پتا ، صادق آباد تک میں جاگا ہوا تھا اور سر کے نیچے بیگ تھا ،پھر پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور روہڑی پہ آنکھ کھلی تو بیگ غائب تھا”

"روہڑی سے پہلے کا علاقہ ہمارے پاس نہیں ہے ، وہ آپ کو پنجاب ریلوے میں کمپلین لکھوانی ہوگی، سوری” یہ کہ کر وہ پولیس والے آگے چلے گئے اور ٹرین اپنی روانی سے چلنے لگی۔

فرخ اداسی سے اپنے بوجھل قدموں سے کمپارٹمنٹ کی طرف جارہا تھا کہ اچانک اسے کچھ خیال آیا۔ وہ باتھ روم کی طرف مڑگیا۔

جاری ہے۔ ۔۔۔

کیا فرخ کو اس کا بیگ ملا یا نہیں ؟ یہ جاننے کے لئے اگلی قسط کا انتظار کریں۔

✍فیضان متین

الٹی شلوار (منٹو والی نہیں ہے )

"صبح گیارہ بجے کے وقت کون آگیا یہ، اس وقت تو گھر پہ بھی میں اکیلی ہوں” صدف صاحبہ فلیٹ کی بیل مسلسل بجائے جانے پہ خود سے گویا ہوئیں۔
سنہ 2000 کی بات ہے ۔صدف کراچی کے مصروف ترین علاقہ صدر میں ایک پلازہ میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ شوہر کے آفس اور بچوں کے اسکول جانے کے بعد وہ گھر کے کاموں میں مصروف تھی کہ اچانک بیل بجی۔

مین گیٹ کے اندر سے ہی صدف نے پوچھا "کون ہے باہر؟”

"باجی میں بہت مشکل میں ہوں آپ دروازہ کھولیں میری مدد کردیں” ایک عورت کی باہر سے آواز آئی۔

صدف نے یہ سوچ کہ شائد کوئی ضرورت مند عورت ہے دروازہ کھول دیا۔
"جی بولیں آپ کیا مسئلہ ہے”

"بہن بات دراصل یہ ہے میں جلد بازی میں گھر سے الٹی شلوار پہن کہ نکل گئی تھی آپ صرف دو منٹ مجھے باتھ روم میں جاکر شلوار چینج کرنے دیں، مجھے بازار میں بہت شرمندگی ہورہی ہے”

صدف نے اس کی شلوار دیکھی وہ واقعی الٹی تھی اور کیونکہ وہ خود بھی عورت تھی تو اس کی پریشانی سمجھتی تھی۔
"اچھا آجاو اندر وہ سامنے باتھ روم ہے ”

"بہت شکریہ بہن اللہ خوش رکھے۔”

کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی تو اس نے اپنا سر پکڑا ہوا تھا اور لڑکھڑا کہ چل رہی تھی ۔۔

"ارے یہ کیا ہوگیا تمھیں؟ ” صدف نے پوچھا

"باجی ۔۔۔ ممم۔۔ مجھے شائد ۔۔ مرگی ۔۔ نہیں فالج۔۔۔ مجھے کچھ ہورہا ہے۔۔ پانی۔۔۔ ”

صدف نے اسے پانی پلایا وہ سوچ میں پڑگئی "کیا مصیبت گلے پڑگئی یار اب میں اس کا کیا کروں۔ پولیس کو بھی نہیں بلاسکتی، اگر اسے کچھ ہوگیا تو مجھ پہ ہی الزام نہ آجائے۔ شوہر کے آفس بھی کال کرنے کا فائدہ نہیں کیونکہ وہ سیلز ٹارگٹ کے لئے کافی دور گیا ہوا تھا۔

"باجی یہ نمبر۔۔ ملادیں میرے بھائی کا۔۔ اسے بتادیں فرزانہ ۔۔ طبیعت کھراب ہوگئی۔۔ وہ لے جائگا مجھے۔۔”

صدف نے لینڈ لائن پہ وہ نمبر ملا کہ اس آدمی کو جسے فرزانہ اپنا بھائی کہ رہی تھی، ساری صورتحال سے آگاہ کیا ، اس نے ایڈریس سمجھ کہ کچھ دیر میں پہنچنے کا وعدہ کیا۔

کچھ دیر بعد بیل دوبارہ بجی اور فرزانہ کا بھائی اندر داخل ہوا۔۔

” بھائی شکر ہے تم آگئے اب جلدی سے اسے اٹھا کہ ہسپتال لے کر جاو۔ اس کی حالت سہی نہیں ہے۔۔” صدف نے جان چھرانی چاہی۔۔

یہ سنتے ہی اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اگلے لمحے اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔۔ جو اس نے صدف پہ تان لیا۔ ” ہسپتال تو تو جائگی اگر جلدی سے سب زیورات اور پیسے نکال کہ نہیں لائگی۔”

صدف کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔۔ اتنے میں فرزانہ بلکل ٹھیک کھڑی ہو کہ اس کے سامنے آگئی۔۔

"جلدی کر ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے” ۔۔

کچھ دیر بعد گھر کا صفایا ہوچکا تھا اور صدف سر پکڑ کے بیٹھی تھی۔۔

✍ فیضان متین