آخری قسط

"سیف کیا ہم مل سکتے ہیں؟”
اب پریشان ہونے کی باری سیف کی تھی ۔۔ "یار کیا بہانہ بناوں اسے۔۔۔ ملنے کے بعد تو اسے میری اصلیت پتا چل جائگی اور پھر یہ بات نہیں کرےگی”
"ہاں ملے گے نہ کیوں نہیں لیکن میں نے شائد تمھیں بتایا تھا نہ کہ نیکسٹ ویک میرا ٹرانسفر اسلام آباد ہورہا ہے تو اب کراچی بہت کم آنا ہوگا”
سیف نے ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔
"یار صرف ایک دفعہ کی تو بات ہے کون سا بار بار ملنے کا کہ رہی ہوں۔ میں تم سے مل کے ہماری آگے کی لائف کے بارے میں ڈسکس کرنا چاہتی ہوں۔۔ کیا تم سیریس نہیں ہو”
"ایسا مت کہو جان ! اچھا اگر پوسیبل ہوا تو میں تمھیں بتادوں گا”
"یار تم نے اس دن ویڈیو کال کا بھی منع کردیا تھا ، میں تمھیں دیکھنا چاہتی ہوں سیف”
"یار میری جان جی بھر کے دیکھ لینا بس کچھ ٹائم دو پھر تم ہمیشہ کے لئے میری ہوگی”
"یار بس ایک دفعہ اپنے وجود کا یقین دلادو ۔۔ مجھے پتا نہیں کیوں لگتا ہے کہ یہ سب ایک سراب ہے جو ختم ہوجائے گا۔۔ میں اس رشتے کو انٹرنیٹ کی دنیا سے اصلی دنیا میں لانا چاہتی ہوں”
"اس کا مطلب تمھیں مجھ پہ بھروسہ نہیں؟”
"یار تم کیوں نہیں سمجھتے مجھے۔۔۔”
"کیونکہ تم میتھ کا سوال تو ہو نہیں” سیف نے ٹاپک بدلنے کی کوشش کی
"ایک تو تمھارا یہ ہر بات میں سینس آف ہیومر” سحر نے اکتاہٹ سے جواب دیا۔۔۔ سیف رات کو کال کرنے کا کہ کر کسی کام سے چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو چار بجے فون کی وابریشن پہ سحر کی آنکھ کھلی ، سکرین پہ ‘سوفیہ کالنگ’ لکھا ہوا آرہا تھا ۔ سحر نے پہلے باہر نکل کہ چیک کیا سب سورہے تھے، اس کے بعد کال اٹینڈ کی ۔۔
” یہ وقت ملا ہے فون کرنے کا؟”سحر نے خفگی کا اظہار کیا۔
"ارے میری جان ہمارا تو سارا وقت آپ کے لئے ہے” سیف کے لہجے میں خمار اور بے تکلفی تھی۔
” آو کچھ پیار بھری باتیں کرتے ہیں۔۔”
"تمھیں تو مجھ سے پیار ہے نہیں تبھی نہیں اپنا رہے”
"ارے ہے نہ پیار ۔۔ کیا میں تمھیں کر کہ دکھاوں فون پہ؟ ”
سحر نے اتنا بے تکلف ہو کر کبھی کسی لڑکے سے بات نہیں کی تھی ۔۔ ایسی باتیں اور رات کا وقت اس پہ سیف کا جادو چلانے کے لئے کافی تھا۔۔
"سیف مجھے اپنالو ۔۔ ہمیشہ کے لئے اپنا بنالو”
"تم میری ہی تو ہو جانو۔۔ اچھا ذرا بتاو تم نے کیا پہنا ہوا ہے اور ابھی کیا کررہی ہو؟”سیف کی بے تکلفی بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔
اور پھر رات گذرتی رہی اور دونوں کی بے تکلفی بڑھ کے بہت آگے پہنچ گئی۔۔ سیف آج اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب راتوں کو فون پہ اس طرح کی باتوں کا معمول بن چکا تھا ۔۔۔ سحر نے کئی بار سیف سے ملنے کا کہا لیکن وہ ہر بار ٹال دیتا ۔ سحر اب اس کے بغیر جینے کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔۔ وہ اس کے ساتھ زندگی کے خواب دیکھنے لگی۔۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔۔۔ لیکن پھر ایک دن اس کی دوست کا میسج آیا۔
"سحر یہ جو سیف خان نام کی آئی ڈی تمھارے پاس ایڈ ہے یہ کون ہے؟”
سحر اسکا سوال سن کے چونکی ۔۔ "ایسے ہی ایف بی فرینڈ ہے کیوں کیا ہوا؟ سب خیریت ”
"یار اس نے یہ جو ڈی پی لگائی ہوئی ہے اس کی اپنی ہے؟”
"ہاں اپنی ہے کتنا کیوٹ ہے نا”
"ہاں لیکن تمھیں کیسے پتا یہ اس کی اپنی ہے؟”
"یار اس نے مجھے اپنی کافی پکس بھیجی ہیں ۔۔ ویسے ہوا کیا؟”
"یار سچ سچ بتانا تم اس میں انٹرسٹڈ ہو نا ۔۔ میں نے اس کے کافی کمنٹز پڑھیں ہیں تمھاری پکس پہ”
"او اچھا تو آپ جیلس ہورہی ہیں ۔۔ ہممم”
"یار جیلس نہیں تمہیں خبردار کررہی ہوں۔۔ تم اتنی بے وقوف ہوگی مجھے اندازہ نہیں تھا”
"یار کیوں ٹینشن دے رہی ہو بھئی۔۔ ہاں میں اسے پسند کرتی ہوں۔ اور وہ بھی مجھے۔۔ لیکن تم ابھی کسی کو نہیں بتانا”
سحر کی دوست کو اندازہ نہیں تھا کہ معاملات پسند سے بہت آگے جاچکے ہیں۔ اور فون پر ہی ‘بہت کچھ’ ہوچکا ہے۔
"یار میری یہ بات دھیان سے سنو ۔۔ کیا نے کبھی اسے پکس کے علاوہ دیکھا ہے۔۔ مطلب ریئل میں یا ویڈیو میں؟”
ایسا تو واقعی کبھی نہیں ہوا تھا ۔۔ وہ کتنی بار سیف کو کہ چکی تھی لیکن وہ ہمیشہ ٹالتا تھا۔ سحر پریشان ہو کر بولی۔۔
"نن۔۔ نہیں۔۔ لیکن اس نے کہا تھا کہ ملے گا”
"یار وہ تم سے کبھی نہیں مل سکتا کیوں کہ جو پک اس نے تمھیں اپنی بھیجی ہیں نہ وہ اس کی ہیں اور نہ اس کا نام سیف ہے۔۔ بلکہ یہ آئی ڈی ہی فیک ہے۔۔
سحر تقریبا چکراکہ زمین پہ گرنے والی تھی ۔۔” یا خدا یہ جھوٹ بول رہی ہو ۔۔ سیف ایسا کیسے کرسکتا ہے "
اس نے خود پہ قابو پاتے ہوئے پوچھا۔۔
"لیکن تم اتنے یقین سے یہ بات کیسے کہ رہی ہو ؟ "
"ویٹ میں کچھ دکھاتی ہوں ۔۔ "
کچھ دیر بعد اس کی دوست نے ایک لنک سینڈ کیا ۔۔
"اسے اوپن کرو”
سحر نے کانپتے ہاتھوں اور پھٹی نظروں سے لنک اوپن کیا تو وہ ٹھٹک کہ رہ گئی۔۔
سکرین پر ایک پروفائل ‘جمشید شیخ’ کے نام سے اوپن تھی ۔۔ اور اس کی ڈی پی اور ساری تصاویر وہی تھی جو سیف نے اسے بھیجی تھی۔
سحر کی آنکھوں سے اب آنسو رواں تھے۔۔ آخری تنکے کا سہارا لیتے ہوئے بولی۔۔
"یہ بھی ۔۔ تو ہو سکتا۔۔ ہے نہ۔۔ کہ یہ بندہ سیف کی پکس ۔۔ مطلب یہ آئی ڈی فیک ہو”
"یہ فیک نہیں ہوسکتی کیوں کہ ان کے میوچل فرینڈز میں میرے بھائی بھی ایڈ ہیں اور میں ان سے کنفرم کرچکی ہوں”
"اگر یہ پکس کسی اور کی ہیں تو پھر سیف اصل میں کون ہے ؟ میں اتنی بڑی بےوقوفی کرسکتی ہون مجھے اندازہ نہیں تھا” سحر روہانسی ہو کہ بولی۔۔
اس نے غصے اور اداسی کی ملی جلی کیفیت میں سیف کو میسج میں وہ پروفائل لنک سینڈ کیا ۔۔ "وٹ از دز؟ جواب دو مجھے؟ کون ہو تم ؟ ۔۔۔ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا ۔۔ کچھ تو جواب دو ۔۔ میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی دھوکے باز”
کچھ دیر بعد میسج ‘سین’ ہوا اور اس کے بعد میسنجر پہ ‘یو کین ناٹ ریپلائی ٹو دس کنورزیشن’ لکھا ہوا آیا ۔۔۔ اس نے فورن وٹس ایف اور نمبر ٹرائی کیا۔۔ وہ ہر جگہ سے بلاک ہوچکی تھی۔۔
سحر نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا ۔۔ سیف سے کی گئی سب باتیں ، وعدے اور دعوے اس کے ذہن میں منڈلانے لگے۔۔ ‘یا اللہ مجھے معاف کردے میں نے ایک انسان کی محبت میں خود کو برباد کرلیا۔۔۔ میں شائد تھی ہی اسی قابل۔۔ میں اسے بد دعا نہیں دوں گی بس تو انصاف کرنے والا ہے۔۔میں بہت بری ہوں میرے مولی۔۔ بہت بری۔۔ میں نے ایک حلال رشتے کا انتظار نہیں کیا اور حرام کام میں پڑی۔ یہ یقینا اسی کی سزا ہے۔۔ مجھے معاف کردے” ۔۔۔
‘ سحر کو ‘ڈیجیٹل لو’ کا بہت گہرا سبق مل چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد ایک دوسرے گروپ میں پوسٹ ہوئی۔۔۔”کمنٹ میں ہیلو ٹائپ کریں اور اپنا انباکس چیک کریں”۔۔۔۔۔ بہت سی لڑکیوں کے کمنٹز آنے لگے۔۔۔
ختم شد
✍فیضان متین